قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرری نہ کرنے کے حکم امتناع میں توسیع

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرری نہ کرنے کے حکم امتناع میں توسیع

پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرری پر پہلے سے جاری حکم امتناع میں توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

یہ حکم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں عمر ایوب اور شبلی فراز کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔

دورانِ سماعت، جسٹس وقار احمد اور جسٹس ڈاکٹر کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ’’عدالت کے واضح احکامات کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے میرے موکلین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا، حالانکہ عمر ایوب اور شبلی فراز بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز ہیں۔‘‘

وکیل نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے نااہلی کا فیصلہ سنایا تھا لیکن عدالت نے کمیشن کو مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔ اس کے باوجود پارلیمانی عہدوں سے انہیں ہٹایا جانا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری لاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے تحریری کمنٹس تیار ہیں، تاہم دیگر مقدمات میں مصروفیت کے باعث جمع نہیں کرائے جا سکے۔

عدالت کا آئندہ سماعت تک تقرریوں پر پابندی برقرار رکھنے کا حکم عدالت نے موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرری پر عائد پابندی (حکم امتناع) میں توسیع کر دی اور متعلقہ فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت پر اپنا جواب داخل کریں۔

Scroll to Top