وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں کا مشترکہ دورہ کیا، جس کا مقصد متاثرہ عوام سے اظہار ہمدردی، بحالی کے اقدامات کا جائزہ اور متاثرین کو حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرانا تھا۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) کے مطابق، دونوں رہنما سب سے پہلے سوات پہنچے، جہاں وفاقی وزیر امیر مقام نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد وفد نے ضلع بونیر کا رخ کیا، جو حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 350 سے زائد افراد سیلاب کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 228 کا تعلق صرف بونیر سے ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے متاثرہ علاقوں کا فضائی و زمینی جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان متحرک دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق، آج باجوڑ اور مانسہرہ کے لیے دو الگ الگ امدادی کھیپ روانہ کی گئیں جن میں شامل ہیں
خیمے
کمبل
راشن بیگز
جنریٹر
ڈی واٹرنگ پمپس
جان بچانے والی ادویات
یہ امدادی سامان مقامی ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا جو اسے متاثرہ علاقوں میں تقسیم کرے گی۔ NDMA کا کہنا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں مسلح افواج اور فلاحی اداروں کے تعاون سے کی جا رہی ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں کے لیے بھی امدادی کھیپیں بھیجی جا رہی ہیں۔
دورے کے دوران وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے متاثرین کو ریلیف، بحالی اور تعمیر نو میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا’’ریاست اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ بحالی اور دوبارہ آباد کاری تک ہماری مدد جاری رہے گی۔‘‘جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا’’مسلح افواج ہر قدرتی آفت میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ متاثرین کی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔‘‘





