سیلاب متاثرین ذہنی اذیت میں مبتلا، راشن نہیں بحالی چاہیے، امیر حیدر کا حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کے مسائل صرف راشن تقسیم کرنے سے حل نہیں ہوں گے، اب وقت ہے کہ ان کی بحالی کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

قومی اخبار(روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ بونیر اور دیگر متاثرہ علاقوں کے مکین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں، جہاں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں اور لوگ اپنے گھروں، مال مویشیوں اور پیاروں کے نقصان پر غمزدہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2010ء میں جب خیبرپختونخوا میں بدترین سیلاب آیا تھا، وہ اس وقت وزیراعلیٰ تھے اور انہیں متاثرین کے درد اور بحالی کی پیچیدگیوں کا بھرپور تجربہ ہے۔ اُن کے مطابق صرف آٹا، دال یا چینی دینا وقتی ریلیف ہے، مگر اصل کام متاثرہ گھروں کی دوبارہ تعمیر اور لوگوں کو ذہنی و معاشی طور پر بحال کرنا ہے۔

امیر حیدر ہوتی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو مشورہ دیا کہ ترقیاتی فنڈز کو وقتی طور پر منجمد کر کے تمام وسائل سیلاب متاثرین کی تعمیر نو پر صرف کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی یہ بات کہ ’’کسی کی مدد کی ضرورت نہیں‘‘، قابلِ فہم نہیں کیونکہ ’’گلوبل وارمنگ جیسے بین الاقوامی چیلنجز سے لڑنے کے لیے صرف صوبائی وسائل کافی نہیں۔‘‘

انہوں نے وفاق اور صوبے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مل کر متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

Scroll to Top