اسفندیار ولی کا ایم پی اے شفیع جان کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس

عوامی نیشنل پارٹی کےسابق سربراہ اسفندیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی شفیع جان کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ یہ نوٹس معروف قانون دان طارق افغان ایڈووکیٹ کی وساطت سے بھیجا گیا ہے۔

نوٹس کے مطابق شفیع جان نے 22 اگست کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے فلور پر تقریر کے دوران اسفندیار ولی خان پر بے بنیاد اور سنگین الزامات عائد کیے، ایم پی اے نے اپنی تقریر میں اسفندیار ولی پر پختونوں کے سر پر ڈالر لینے کا الزام لگایا، جو نوٹس کے مطابق سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔

اسفندیار ولی کے وکیل کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شفیع جان نے نہ صرف اسمبلی کے فلور پر الزامات لگائے بلکہ اس تقریر کی ویڈیو کو اپنے ذاتی فیس بک پیج پر بھی اپلوڈ کیا جس سے مؤکل کی شہرت کو نقصان پہنچا اور ان کی دل آزاری ہوئی۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھےجو بعد ازاں عدالت میں ثابت نہ ہو سکے اور عدالت نے ان کے خلاف ڈگری جاری کی۔

قانونی نوٹس میں شفیع جان کو 15 دن کے اندر معافی مانگنے اور فیس بک سے متعلقہ ویڈیو حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بصورت دیگر قانونی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

Scroll to Top