چارسدہ نوجوان وکیل کیس، وکلاء برادری کا نیا انکشاف سامنے آ گیا

چارسدہ: ضلع چارسدہ میں سینئر قانون دان کے نوجوان بیٹے میاں عاصم کاکاخیل ایڈووکیٹ کے قتل پر خیبرپختونخوا بھر میں وکلاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں سے مکمل بائیکاٹ کر دیا۔

صوبے کی تمام عدالتوں میں وکلاء پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وکلاء تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ میاں عاصم کاکاخیل کو چارسدہ پولیس نے ان کے حجرے میں بے دردی سے قتل کیا۔ وکلاء کا مؤقف ہے کہ مقتول کے اہلِ خانہ کو کئی گھنٹوں تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور بعد ازاں پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچایا گیا۔

پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر امین الرحمن یوسفزئی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے صوبائی حکومت، آئی جی خیبرپختونخوا اور ڈی پی او چارسدہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایف آئی آر میں نامزد ایس ایچ او کو گرفتار کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : حماد اظہر کا سیاست سے وقتی کنارہ کشی، این اے 129 کا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ

بار کونسلز اور وکلاء رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔

واقعے پر وکلاء برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے، جب تک ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔

Scroll to Top