اسلام آباد: پاکستان اور یورپی ملک بیلاروس کے درمیان تربیت یافتہ پاکستانی ورک فورس کو روزگار کی فراہمی کے لیے باہمی تعاون پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے۔
ایم او یو پر دستخط وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور بیلاروس کے وزیر داخلہ آئیوین کبراکوف نے کیے۔ اس موقع پر وزیر مملکت عون چوہدری اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہنر مند پاکستانی کارکنوں کو بیلاروس میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ ابتدائی مرحلے میں ٹیکسٹائل، توانائی اور تعمیراتی شعبے میں ملازمتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی، جبکہ پاکستانی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔
معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ لیبر موبیلٹی کوریڈورز قائم کیے جائیں گے تاکہ کارکنوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور بھرتی منظم انداز میں کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، بیلاروس جانے والے پاکستانیوں کے لیے زبان سکھانے اور پیشہ وارانہ مہارت بڑھانے کے لیے پائلٹ پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔
بیرون ملک روزگار کے خواہشمندوں کی بہتر رہنمائی کے لیے مائیگرنٹ ریسورس سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا، اور بعض منتخب ورکرز کو اپنے اہلخانہ کے ہمراہ بیلاروس جانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی گروپ بھی تشکیل دیا جائے گا۔
اس موقع پر چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کو تربیت یافتہ ورک فورس فراہم کرنے والے چوٹی کے ممالک میں شامل ہے اور اس شراکت داری سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی شناختی کارڈ رکھنے والے دو افغان باشندے گرفتار
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ماہ سے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ قانونی و محفوظ ہجرت کو فروغ دیا جا سکے۔





