بلاک چین کی دنیا میں پاکستان کا اُبھرتا ہوا کردار

پاکستان نے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مؤثر اور مضبوط بنا لیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لا کر کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی و ریگولیشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

وزیر مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرپٹو پالیسی عالمی وژن کی پیروی کرتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی مواقع کے دروازے کھول رہی ہے۔

بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ ہمارے سٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو مستقبل میں عملی سرمایہ کاری کی علامت ہوگا۔

بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز نے بھی پاکستان کی کرپٹو پالیسی میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے اسے ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی اور دور اندیش حکمت عملی قرار دیا ہے۔

بلال بن ثاقب نے اس پہچان کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ ہم آخرکار ایک فعال شراکت دار کے طور پر عالمی جدت کے میدان میں اپنا مقام حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان نے سوئٹزرلینڈ اور ایل سلواڈور جیسے ممالک کی صف میں شامل ہوتے ہوئے بٹ کوائن ریزرو کو قانونی حیثیت دی ہے جسے ملکی مالیاتی پالیسی میں انقلابی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

کرپٹو سفارت کاری کے ذریعے پاکستان نہ صرف اندرونی معیشت کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بٹ کوئن کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ماہرین کے مطابق اگر یہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان جلد ہی کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی میں علاقائی رہنما کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

Scroll to Top