4 سے 5 ستمبر کو بڑا سیلاب متوقع، چیئرمین این ڈی ایم اے نے خبردار کردیا

4 سے 5 ستمبر کو بڑا سیلاب متوقع، چیئرمین این ڈی ایم اے نے خبردار کردیا

پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ 4 سے 5 ستمبر کے دوران بڑے سیلابی ریلے ایک ساتھ گڈو اور سکھر بیراج کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گڈو اور سکھر بیراج پر 8 سے 10 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے متوقع ہیں جبکہ گڈو بیراج پر یہ بہاؤ زیادہ سے زیادہ 12 سے 13 لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ یہ آخری مون سون سپیل ستمبر کے پہلے 10 دنوں میں متوقع ہے اور اس دوران خلیج بنگال میں لو پریشر سسٹم بننے کا امکان ہے جو بارشوں کے تسلسل کو بڑھائے گا۔

آئندہ 3 سے 4 دنوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا جس کا زیادہ اثر شمالی اور مشرقی پنجاب کے علاقوں پر ہوگا، آزاد کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں بھی بارشیں متوقع ہیں تاہم کشمیر میں بارشوں کا دباؤ گزشتہ ہفتے جتنا شدید نہیں ہوگا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ تمام اہم دریا مانیٹرنگ سسٹمز کے تحت ریگولیٹ کیے جا رہے ہیں، دریائے سندھ اور جہلم میں پانی معمول سے زیادہ نہیں ہے، جبکہ دریائے چناب، راوی اور ستلج پر دباؤ موجود ہے، گنڈا سنگھ والا کے علاوہ دیگر مقامات پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب کی صورت حال کے باعث اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے متاثرین کو کیمپوں میں ابتدائی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا ہے کہ ملک میں اب تک سیلاب کی وجہ سے تقریباً 850 قیمتی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1150 سے زائد ہے، اصل نقصان کا تفصیلی اعداد و شمار اکتوبر کے بعد قومی سطح پر مرتب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کا دباؤ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر سندھ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے، ریلیف نظام کے تحت صوبوں کو حقیقت پر مبنی انتباہات فراہم کیے جا رہے ہیں اور آئندہ 10 دنوں تک سیلابی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جائے گا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کا مزید کہنا تھا کہ نشیبی علاقوں میں پانی 2 ہفتے تک کھڑا رہنے کا امکان ہے اور 2 دن بعد 7 سے 8 لاکھ کیوسک کے ریلے دریاؤں میں داخل ہوں گے، 4 سے 5 ستمبر کو یہ سیلابی ریلے اکٹھے ہو کر گڈو بیراج کی جانب بڑھیں گے جس سے ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سلال ڈیم کے سپل ویز کھول دیے، پنجاب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ، 36 گھنٹے اہم قرار

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد کو آبی گزرگاہوں سے نکالا جا چکا ہے اور ریلیف و امدادی کام تیزی سے جاری ہیں۔

Scroll to Top