پشاور: پنجاب میں آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کو سنگین معاشی اور سماجی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر صوبے میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار طارق وحید کا کہنا ہے کہ پنجاب سے خیبرپختونخوا کو آنے والی اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے جس کی وجہ سے صوبے میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث پنجاب کے زرعی اور صنعتی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے اثرات صوبہ خیبرپختونخوا کی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک چینز بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث خیبرپختونخوا میں اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔
طارق وحید نے مزید کہاکہ حکومت کو فوری طور پر متحرک ہو کر صوبوں کے درمیان اشیاء کی نقل و حمل کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عوام کو مہنگائی اور قلت سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں سیلاب کے بعد ڈینگی وائرس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اس کے علاوہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے خصوصی فنڈز اور امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام اور تاجروں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی ممکنہ معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور مارکیٹ میں اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنائے۔





