پشاور:خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابی صورتحال کے بعد آنکھوں کی بیماری “آشوب چشم” نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے اور صوبے بھر میں مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق پشاور سمیت مختلف شہروں میں سرخ آنکھوں، سوجن اور جلن جیسے علامات کے ساتھ اسپتالوں کا رُخ کرنے والے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ صرف پشاور کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں افراد آشوب چشم کی شکایت لے کر پہنچ رہے ہیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال اور خیبر ٹیچنگ اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یومیہ 100 سے زائد مریض آنکھوں کی بیماری کے ساتھ رجوع کر رہے ہیں، جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ صوبے بھر میں اب تک آشوب چشم کے 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گندے پانی، صفائی کے ناقص انتظامات اور متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے کی وجہ سے یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضلعی انتظامیہ سوات کا لیویز اہلکاروں کی جانب سے سیلاب متاثرین پر لاٹھی چارج معاملے پر اہم اقدام
صحت کے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، آنکھوں کو بار بار پانی سے دھوئیں، متاثرہ افراد کے ساتھ تولیہ یا تکیہ شیئر نہ کریں، اور علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔





