پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ باچا خان نے اپنی زندگی میں واضح طور پر کہا تھا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا۔ ولی خان نے بھی کہا تھا کہ اگر ہماری قوم کو ڈبونے کی کوشش کی گئی تو ہم کالاباغ ڈیم بنانے والوں کو ہی ڈبو دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی موقف آج بھی اے این پی کا مؤقف ہے اور ہم اپنی جان دے دیں گے لیکن اس مردہ منصوبے کو زندہ نہیں ہونے دیں گے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمیں پنجاب کے عوام کے نقصان پر اتنا ہی دکھ ہے جتنا اپنے لوگوں کے دکھ پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اس موقع پر بھی چند عناصر نے کالاباغ ڈیم کا شوشہ دوبارہ اٹھایا ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ اگر کالاباغ ڈیم بنتا تو سیلاب نہ آتا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں آنے والا سیلاب ہندوستانی دریاؤں کے پانی کی وجہ سے آیا ہے، جس کا کالاباغ ڈیم سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسی بے بنیاد باتیں کرنا دراصل عوام کو گمراہ کرنے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔
میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم نہ ماضی میں بن سکا ہے اور نہ ہی مستقبل میں بنے گا۔ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے لیے تباہی ہے۔ کوئی یہ کیسے چاہتا ہے کہ ایک صوبے کے مفاد کے لیے پورے پاکستان کو ڈبو دیا جائے؟ اے این پی اس منصوبے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ اگر ملک میں ڈیم بنانا ہے تو بھاشا ڈیم بنایا جائے، جو کالاباغ سے بڑا ہے اور جس کی بجلی اور اختیار براہِ راست خیبر پختونخوا کے پاس ہوگا۔ لیکن کچھ قوتیں صوبوں کی قیمت پر صرف پنجاب کو فائدہ پہنچانے کی سوچ رکھتی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گنڈاپور اپنے صوبے کے مفادات کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ اپنی کرسی بچانے کے لیے وہ صوبے کا سودا کرنے پر تیار ہے۔ اگر وہ واقعی اپنے صوبے کا تحفظ چاہتے تو اس طرح کے بیانات نہ دیتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بانی سے بھی وفادار نہیں رہا، تو صوبے سے کیا وفاداری کرے گا؟ گنڈاپور کا یہ رویہ پختونخوا کے عوام کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں : انسدادِ دہشتگردی عدالت کا فیصلہ، عمران خان کے بھانجے شاہ ریز کو ریلیف
میاں افتخار حسین نے اعلان کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی واضح اور دوٹوک الفاظ میں کالاباغ ڈیم کو ہمیشہ کے لیے مسترد کرتی ہے۔ ہم گنڈاپور اور اس کے پشت پناہوں کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نہ طاقت، نہ دباؤ، اور نہ ہی کوئی سازش ہمیں اپنے صوبے اور اپنی قوم کے مفاد پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔





