خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس، ڈپٹی اسپیکرثریابی بی اور اے این پی کی خدیجہ چترالی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

شاہد جان

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ چترالی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اجلاس کے بعد اسمبلی کوریڈور میں ڈپٹی سپیکرثریا بی بی کا خدیجہ چترالی سے سامنا ہوا۔

ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آپ نے میرے حلقے میں کلاس فورکی بھرتیوں پر کیوں بات کی،میرے حلقے سے متعلق کوئی بات نہیں کرنی، اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو اسمبلی کے فلور پر پیش کریں۔

اس پر خدیجہ چترالی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے سرِعام دھمکیاں نہ دیں، بہت بری بات ہے کہ آپ مجھے دیگر لوگوں کے سامنے دھمکیاں دے رہی ہو،جو سچ ہے وہ میں عوام کے سامنے ضرور لاؤں گی۔

خدیجہ چترالی کا مزید کہنا تھا کہ چترال میں جو حلقہ آپ کا ہے وہ میرا بھی ہے اور وہاں کلاس فور کی بھرتیوں میں جو کرپشن ہو رہی ہے وہ چھپائی نہیں جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں : ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرخیبرپختونخوا کے 9 جوڈیشل افسران نوکریوں سے برخاست

تلخ کلامی کے بعد خدیجہ چترالی نے ایم پی اے نثار باز کے ہمراہ اسپیکر چیمبر جا کر ڈپٹی اسپیکر کے رویے پر باضابطہ شکایت بھی درج کرائی۔

Scroll to Top