وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کے واقعے پر گرفتاری میں تاخیر کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس قانونی کارروائی سے قبل متاثرہ فریق کی جانب سے درخواست کا انتظار کر رہی ہے۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ’’آج انڈا پھینکنے کو حملہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن جب کلثوم نواز علیل تھیں تو مخالفین اسپتال کے کمرے تک پہنچ گئے تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی چھوٹی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ پولیس اُس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک متاثرہ فریق، یعنی علیمہ خان یا ان کی جماعت کی طرف سے تحریری شکایت موصول نہ ہو۔
طلال چوہدری کے مطابق انڈا پھینکنے والی خواتین کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور پہلے بھی ایسے افراد اسلام آباد آ کر پی ٹی آئی مخالف مظاہرے کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا’’انڈے، جوتے اور سیاہی پھینکنے کی سیاست کس نے شروع کی؟ آج وہی لوگ اس کا سامنا کر رہے ہیں۔’’وزیر مملکت نے وضاحت کی کہ حفاظتی تحویل اور گرفتاری میں فرق ہوتا ہے، اور قانون کے مطابق کارروائی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔ جب تک باقاعدہ شکایت درج نہیں کی جاتی، کسی کو حراست میں لینا ممکن نہیں۔
طلال چوہدری نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’بانی پی ٹی آئی نے 25 مئی کو ریاستی اداروں پر حملہ کیا، وہاں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود تھی، لیکن کچھ نہ ہو سکا۔ صرف فوٹیج یا الزامات پر فوری سزا نہیں دی جا سکتی۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی تو پولیس ضرور کارروائی کرے گی، بصورت دیگر قانونی عمل مکمل ہونے تک گرفتاری عمل میں نہیں آ سکتی۔





