پشاور: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اطلاعات برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے صوبے کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں کرپشن، بڑے ڈیم منصوبوں کی مالی مشکلات اور حالیہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے اہم باتیں کیں۔
اختیار ولی خان نے پختون ڈیجیٹل کے خصوصی پوڈ کاسٹ میں بیورو چیف کاشف الدین سید کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کا ایک بڑا المیہ ہے۔
انہوں نے 2013 میں سوات سے منتخب ایک ایم پی اے کی مثال دی جن کے پاس اسمبلی آنے کے لیے گاڑی کا کرایہ بھی نہیں تھا اور دوستوں کی مدد سے وہ اسمبلی پہنچے۔
بعد ازاں یہ شخص تین بار وزیر بنا اور 2022 تک ان کے اثاثے 33 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو صوبے میں کرپشن کے سنگین مسئلے کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے نیب کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نیب خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
اگر نیب نے ایمانداری سے کام کرنا شروع کیا تو آنے والے پندرہ سالوں تک نیب خیبرپختونخوا سے باہر نہیں نکل پائے گا۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے بڑے ڈیم منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ بڑے ڈیمز بنانے کے لیے 20 سے 50 بلین ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے پاس موجود نہیں ہے، اس لیے کالا باغ ڈیم کا بننا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیم مؤثر ثابت نہیں ہوتے، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ناگزیر ہے۔
اختیار ولی خان نے سیاسی گفتگو میں علی امین گنڈاپور کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صوبے کی خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں سیلاب زدگان کا حال بھی دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : چار ڈیم بنانا بہتر حل ہے، کالاباغ ڈیم کو چھوڑ دیں، گورنر خیبرپختونخوا
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا گنڈاپور نے بونیر کے سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کا کوئی اعلان کیا ہے؟
سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے اختیار ولی خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب کے فوراً بعد بونیر کا پہلا دورہ کیا۔
جہاں مقامی لوگوں نے تین اہم مسائل کی نشاندہی کی موبائل نیٹ ورک کی فوری بحالی، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند سڑکوں کو کھولنا، اور بجلی کی فراہمی کی بحالی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں میں 20 لاکھ روپے کے امدادی چیکس کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔





