خیبرپختونخوا میں 72 ہسپتال آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ، اخراجات 7 ارب سے بڑھ کر 9 ارب 60 کروڑ تک پہنچ جائیں گے

پشاور(تیمور خان)خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے سات ڈویژنز میں 78 ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے شارٹ لسٹ کرلیا ہے، جن میں سے 72 ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ہسپتالوں پر سالانہ 7 ارب 90 کروڑ روپے کے اخراجات آتے ہیں، جبکہ آؤٹ سورس ہونے کے بعد یہ اخراجات بڑھ کر 9 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ جائیں گے۔

دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن ایکٹ 2016 کے تحت پہلی مرتبہ 2020 میں آٹھ ہسپتال آؤٹ سورس کیے گئے تھے۔ ان میں دو جنوبی وزیرستان، ایک مہمند، ایک اورکزئی، ایک کرم، ایک ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان، ایک اپر چترال اور ایک لوئر چترال کا ہسپتال شامل تھا۔ تاہم فنڈز کے اجراء کا طریقہ کار پیچیدہ ہونے کی وجہ سے 132 سے زائد دن لگ جاتے تھے جس کے باعث دو ہسپتال غیر فعال ہوگئے۔ ان میں جنوبی وزیرستان کا کیٹیگری ڈی ہسپتال مولا خان سرائی (اکتوبر 2024) اور ضلع مہمند کا کیٹیگری ڈی ہسپتال (جنوری 2025) شامل ہیں۔

دوسرے مرحلے میں 2022 میں 11 ہسپتال آؤٹ سورس کیے گئے جن میں دو جنوبی وزیرستان، دو شمالی وزیرستان، تین باجوڑ، ایک خیبر، ایک کرم، ایک اورکزئی اور ایک اپر کوہستان کا ہسپتال شامل تھا۔ تاہم ان میں سے ایک ٹی ایچ کیو ہسپتال میر علی بھی فنڈز کی کمی کے باعث غیر فعال ہے۔

دستاویزات کے مطابق اس مرتبہ حکومت نے ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے 16 اشاریے (انڈیکیٹرز) بنائے ہیں جنہیں مجموعی طور پر 70 نمبر دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی ہسپتال 37 نمبروں سے کم اسکور کرے تو اسے آؤٹ سورس کردیا جائے گا۔ صوبے کے مجموعی طور پر 78 ہسپتال شارٹ لسٹ ہوئے جن میں رورل ہیلتھ سنٹرز (آر ایچ سی) بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 72 ہسپتال آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم محکمہ صحت ذرائع کے مطابق ان ہسپتالوں میں ایچ ار کی تعداد بڑھانے اور معمولی توجہ دینے سے بہتر ہوسکتے ہیں اس لئے 6 ہسپتالوں کی اوٹ سورسنگ کوعارضی طور پر معطل کیا گیا ہے ۔

فہرست کے مطابق جن ہسپتالوں کو اوٹ سورسنگ کیلئے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے ان میں سے بنوں ڈویژن میں آٹھ ہسپتال (دو کیٹیگری بی، دو کیٹیگری سی اور چار کیٹیگری ڈی)، ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں چھ ہسپتال (ایک کیٹیگری سی اور پانچ کیٹیگری ڈی)، ہزارہ ڈویژن میں 13 ہسپتال (ایک کیٹیگری سی اور 12 کیٹیگری ڈی)، کوہاٹ ڈویژن میں 13 ہسپتال (ایک کیٹیگری بی، تین کیٹیگری سی اور نو کیٹیگری ڈی)، ملاکنڈ ڈویژن میں 23 ہسپتال (ایک کیٹیگری بی، سات کیٹیگری سی اور 15 کیٹیگری ڈی)، مردان ڈویژن میں آٹھ ہسپتال (ایک کیٹیگری سی اور سات کیٹیگری ڈی)، جبکہ پشاور ڈویژن میں سات ہسپتال (دو کیٹیگری سی اور پانچ کیٹیگری ڈی) شامل ہیں۔

16 انڈیکیٹرز میں آبادی، او پی ڈی، آئی پی ڈی، ایمرجنسی، میڈیکل سروسز (آپریشن، ڈلیوری، لیبارٹری)، داخل مریض، ہیومن ریسورس، انفراسٹرکچر، رہائش اور سکیورٹی کو شامل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر او پی ڈی میں ایک ہزار سے 1500 مریضوں پر ایک نمبر، 1500 سے 2000 مریضوں پر دو نمبر، 2000 سے 2500 پر تین، 2500 سے 3000 پر چار جبکہ 3000 سے زائد مریضوں پر پانچ نمبر دیے جائیں گے۔ اسی طرح ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹس کی 80 فیصد موجودگی پر پانچ نمبر، 70 سے 79 فیصد پر چار نمبر، 60 سے 69 پر تین نمبر، 50 سے 59 پر دو اور 50 فیصد سے کم پر ایک نمبر رکھا گیا ہے۔

اسی طرح رہائش کی 50 فیصد سہولت کو تین نمبر، 30 سے 39 فیصد کو دو نمبر اور 30 فیصد سے کم کو ایک نمبر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کے لیے ایک نمبر جبکہ انفراسٹرکچر کے لیے ایک سے تین نمبر رکھے گئے ہیں۔

اس بار آؤٹ سورس کیے جانے والے ہسپتالوں کے لیے فنڈز ریلیز کرنے کا طریقہ کار بھی آسان بنایا گیا ہے۔ اب فنڈز ہیلتھ فاؤنڈیشن سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، پھر ہیلتھ سیکرٹریٹ اور واپس ہیلتھ فاؤنڈیشن تک صرف 19 دن میں جاری ہوں گے، جبکہ پہلے اس عمل میں 132 دن لگتے تھے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعیناتی سب سے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ بیشتر عملہ اپنی مرضی کی تعیناتی چاہتا ہے۔ ماضی میں بھی کئی ڈاکٹرز نے ناپسندیدہ تبادلوں پر استعفے دیے تھے۔ علاوہ ازیں ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو تقرری دی گئی جہاں انہوں نے سول سروس سے استعفے دے دیے، جس کے باعث حکومت اپنے ہی فیصلوں پر عملدرآمد میں مشکلات کا شکار ہے۔

اس وقت صوبے میں کیٹیگری اے کے 13، کیٹیگری بی کے 15، کیٹیگری سی کے 25، کیٹیگری ڈی کے 80، اسپیشلائزڈ ہسپتالوں کے 8، رورل ہیلتھ سنٹرز کے 150، بنیادی مراکز صحت کے 936، ڈسپنسریوں کے 999، سکینڈری ہیلتھ کیئر کے 21 اور 10 ایم ٹی آئی ہسپتال موجود ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق کیٹیگری ڈی ہسپتالوں میں 40 بیڈز، کیٹیگری سی میں 110 بیڈز، کیٹیگری بی میں 220 بیڈز جبکہ کیٹیگری اے ہسپتالوں میں 350 یا اس سے زائد بیڈز ہوتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام خان کے مطابق، یہ فیصلہ ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنانے اور ہیومن ریسورس کی کمی پوری کرنے کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر ان ہسپتالوں کے لیے جو دور دراز علاقوں میں قائم ہیں۔

Scroll to Top