پشاور ہائیکورٹ کا مثالی فیصلہ ،شام کے اوقات میں عدالتیں شروع کرنے کا فیصلہ

پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم اور مثالی فیصلہ کرتے ہوئے شام کے اوقات میں عدالتیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عدالتی کارروائیوں کو تیز کرنا اور عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

پشاور اور ایبٹ آباد کے جوڈیشل افسران کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں اضلاع کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں پائلٹ بنیادوں پر شام کی عدالتیں شروع کی جائیں گی۔ عدالتوں کا اوقات کار دوپہر ڈھائی بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ہوگا تاکہ دیر سے آنے والے کیسز کی سماعت بھی ممکن ہو سکے۔

مراسلے کے مطابق، شام کی عدالتوں میں خاص طور پر سول کیسز، جیسے کہ رینٹ اور فیملی کیسز کی سماعت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ منشیات کے مقدمات میں نامزد خواتین اور نابالغ ملزمان کے کیسز کی بھی سماعت کی جائے گی۔ عدالتیں ان منشیات کے مقدمات بھی سنیں گی جن میں سزا کی مدت سات سال سے کم ہو۔

یہ اقدام عدلیہ کی سہولت کاری اور عوامی فلاح کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مقدمات کی بروقت سماعت اور فیصلے ممکن ہوں گے۔

Scroll to Top