خیبرپختونخوا میں تدریسی شعبے میں اصلاحات کا ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے میں اساتذہ کے لیے ٹیچنگ لائسنس کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب بغیر لائسنس کوئی بھی فرد تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام نہیں دے سکے گا۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، اساتذہ کو لائسنس جاری کرنے کے لیے ایک ریگولیٹری باڈی قائم کی جائے گی، جس پر ابتدائی طور پر 200 ملین روپے لاگت آئے گی۔ اس باڈی کا کام اساتذہ کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور کارکردگی کی جانچ کرنا ہوگا۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، صرف وہی افراد تدریس کے اہل ہوں گے جو اس ریگولیٹری ادارے سے رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ہوں گے۔ اساتذہ کے لیے مخصوص ٹرمنز آف ریفرنس (TORs) طے کیے جائیں گے، جن پر پورا اترنے کے بعد ہی انہیں تدریسی لائسنس جاری کیا جائے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ لائسنس کی تجدید اساتذہ کی کارکردگی سے مشروط ہوگی، جس کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی خدمات فراہم کرنا ہے۔
تعلیمی ماہرین نے اس فیصلے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام تدریس کو ایک پیشہ ورانہ شعبہ بنانے کی جانب اہم قدم ہوگا، اور تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔





