گندم سپلائی پر پابندی! خیبرپختونخوا اسمبلی کا پنجاب کی بجلی وگیس بند کرنے کا عندیہ

پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گندم کی سپلائی پر پابندی عائد کیے جانے پر خیبرپختونخوا اسمبلی میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

قومی اخبار(روزنامہ آج ویب سائٹ)کے مطابق ایوان میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر گندم کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو خیبرپختونخوا سے پنجاب کو فراہم کی جانے والی بجلی اور گیس کی بندش پر غور کیا جا سکتا ہے۔

اسمبلی اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن اراکین ایک مؤقف پر متحد نظر آئے۔ حکومتی رکن شفیع جان نے بتایا کہ گندم کی شدید قلت کے باعث آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بیس کلو آٹے کی بوری کی قیمت 1300 روپے سے بڑھ کر 2500 روپے تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ پنجاب کی جانب سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی ہے۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے کہا کہ جب بھی خیبرپختونخوا کو گندم یا چینی کی ضرورت ہوتی ہے تو پنجاب سرحد بند کر دیتا ہے، جو بین الصوبائی ہم آہنگی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے پنجاب کے چیف سیکریٹری کو فوری خط لکھنے کی تجویز دی۔

رکن اسمبلی فضل الٰہی نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو خیبرپختونخوا سے پنجاب کو دی جانے والی بجلی اور گیس بند کرنے کے لیے قرارداد پیش کی جانی چاہیے۔ جبکہ جے یو آئی کے رکن عدنان نے کہا کہ صرف قراردادیں کافی نہیں، معاملہ اعلیٰ سیاسی قیادت تک پہنچانا ہوگا اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو سخت ردعمل دینا پڑے گا۔

خیال رہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا کو پنجاب سے بڑی مقدار میں گندم کی سپلائی کی ضرورت ہے، جو صوبے میں آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

Scroll to Top