وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد حالیہ سیلاب اور موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹنا اور زرعی شعبے کو مستحکم بنانا ہے۔
یہ اعلان وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں اور طغیانی کے باعث خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور پنجاب شدید متاثر ہوئے ہیں، جب کہ 1000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اب سیلابی ریلا سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات درکار ہیں۔ انہوں نے کہا’’سیلاب سے نمٹنے کے لیے صرف وفاق نہیں، تمام صوبوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘
وزیراعظم نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اہم کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا، جس میںوفاقی وزراچاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریزمتعلقہ محکموں کے افسرانشامل ہوں گے۔یہ کمیٹی متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے، فوری امدادی اقدامات اور طویل المدتی پالیسی سازی پر کام کرے گی۔
وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی کو ’’قومی ایمرجنسی‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار میں کمی، شدید موسم، اور قدرتی آفات اب معمول بنتی جا رہی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی حکمتِ عملی ضروری ہے۔





