ڈیرہ اسماعیل خان : ڈیرہ اسماعیل خان کی جوڈیشری نے ایک تاریخی اور مثبت فیصلہ سناتے ہوئے ڈسٹرکٹ زنانہ ہسپتال کے لیبر روم میں لاوارث حالت میں ملنے والے نومولود کو بے اولاد اور تعلیم یافتہ جوڑے سپریم کورٹ کے اٹارنی حسن عدنان احمد اور ان کی اہلیہ نوشین محسود کے حوالے کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 18 اگست کو ڈسٹرکٹ زنانہ ہسپتال کے لیبر روم میں لاوارث حالت میں ایک نومولود بچہ ملا تھا۔
مختلف درخواستوں پر غور کے بعد ایڈیشنل جج محمد ایاز خان نے اس معصوم بچہ کو اسلام آباد کے جوڑے حسن عدنان احمد اور نوشین محسود کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا۔
عدالت نے جوڑے کی جانب سے دس لاکھ روپے کا شیورٹی بانڈ بھی جمع کروانے کی شرط رکھی۔
یہ بھی پڑھیں : کاٹلنگ میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی بڑی کارروائی، ملاوٹ مافیا بے نقاب
فیصلے کے موقع پر عدالت میں خوشی کا سماں رہا اور ایڈیشنل جج محمد ایاز خان نے خود نومولود کو جوڑے کے حوالے کیا۔
سماجی حلقوں نے اس فیصلے کو تاریخی اور قابلِ تقلید قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام معصوم جانوں کو بہتر مستقبل دینے کی سمت میں اہم پیش رفت ہے۔





