پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے جاری عمل نے لاکھوں دلوں کو غمگین کر دیا ہے۔ وہ افغان شہری جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان میں گزارا، اب ایک ایسے ملک کی طرف روانہ ہو رہے ہیں جسے انہوں نے صرف بزرگوں کی باتوں یا تصاویر میں جانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اٹک شہر کے محلہ بجلی گھر، اعوان شریف اور دیگر کئی علاقے گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی بستیاں رہے ہیں۔ یہاں بسنے والے افغان خاندانوں نے نہ صرف مقامی معاشرے کا حصہ بن کر دکھایا، بلکہ محنت، دیانت اور خدمت کے جذبے سے خود کو ایک قابلِ اعتماد برادری کے طور پر منوایا۔
مقامی لوگ ان محلوں کو محبت سے ’’منی افغانستان‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، جہاں افغان ثقافت، زبان، روایات اور میل جول نے مقامی و مہاجر رشتوں کو مضبوط کیا۔
اٹک کے متعدد افغان نوجوان ایسے ہیں جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی، تعلیم پاکستان میں مکمل کی گئی، اور شعور کی آنکھ یہیں کھلی۔ ان کا افغانستان سے واحد تعلق ان کے بزرگوں کی ہجرت ہے۔ اب یہ نوجوان، جنہوں نے خود کو ہمیشہ پاکستانی سمجھا، ایک اجنبی سرزمین کی طرف روانہ ہو رہے ہیں ایک ایسی واپسی جو ان کے لیے جذباتی طور پر بہت بھاری ہے
طورخم بارڈر پر واپسی کے منتظر افغان شہری بہادر خان نے میڈیا سے گفتگو میں جذباتی لہجے میں کہا’’پاکستان میں دل لگ گیا ہے، نہ نکالا جائے۔ اگر میں یہاں مزید 50 سال بھی رہتا، تب بھی ایک دن واپس جانا ہی تھا۔‘‘
بہادر خان جیسے کئی افراد نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا دل سے شکریہ ادا کیا، جنہوں نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ زندگی جینے کے مواقع فراہم کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ پاکستانی مہمان نوازی، محبت اور بھائی چارے کو یاد رکھیں گے۔
یہ منظرنامہ صرف افغان پناہ گزینوں کے لیے نہیں، بلکہ پاکستانی معاشرے کے لیے بھی ایک اہم لمحہ ہے ایک ایسی جدائی جس میں دونوں جانب صرف بچھڑنے کا دکھ باقی ہے۔





