پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی قیادت کا ایک اہم اجلاس آج پشاور میں ہوا جس میں ریجنل صدور اور جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس میں پارٹی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قید میں رکھنے کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
اجلاس میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جاری فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے علاقے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
پارٹی نے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کے قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر التوا آرٹیکل 245 کی اپیل فوری طور پر واپس لے اور صوبے میں مکمل سول اتھارٹی کو بحال کرے۔
تحریک انصاف نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے بعد سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تمام مقدمات واپس لیے جائیں اور اُن تمام سرکاری افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے غیر قانونی اقدامات کیے، خصوصاً وہ افسران جو 8 فروری کے عام انتخابات سے متعلق بے ضابطگیوں میں ملوث رہے۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے معدنی وسائل سے متعلق مؤقف پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور صوبے کے قدرتی وسائل اور عوامی مفادات سے متعلق کسی بھی معاہدے سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی کو اعتماد میں لینا لازم قرار دیا جائے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایف ڈبلیو او اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے تمام حالیہ معاہدوں کے ساتھ ساتھ سابق فاٹا دور کے معاہدوں کو بھی اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ان کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔
پارٹی نے زور دیا کہ تمام استحصالی معاہدوں کو یا تو منسوخ کیا جائے یا ان میں ترمیم کی جائے۔
اجلاس میں کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ نہ صرف زرخیز زمینوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا بلکہ لاکھوں افراد کی بے دخلی اور بین الصوبائی تنازعات کو جنم دے گا۔
پارٹی نے عمران خان کی ہدایت کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے اور وسعت دینے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ماحولیاتی تحفظ، سیلاب سے بچاؤ اور پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : گیس کنکشن پہلے کس کو دیے جائیں گے؟ تفصیلات جاری
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت یکطرفہ فیصلوں، آپریشنز یا استحصالی معاہدوں پر اصرار کرتی ہے تو خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو عمران خان کی رہنمائی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر ممکن آئینی و سیاسی اقدام اٹھانا ہوگا۔





