پشاور:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ صوبے کے 18 اضلاع میں کم کارکردگی والے ہسپتالوں کے انتظام و انصرام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر 24 ہسپتالوں کو آوٹ سورس کیا جارہا ہے۔
مشیر صحت کےمطابق ان ہسپتالوں میں کٹیگری بی، سی اور ڈی لیول کے ہسپتال شامل ہیں۔
آؤٹ سورسنگ سے متعلق پیدا ہوانے والی غلط فہمیوں سے متعلق احتشام علی کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو سرکاری خرچے پر بہترین علاج فراہم کرنا ہے۔ ان ہسپتالوں میں معیاری اور مفت علاج سرکاری پرچی کے ریٹ پر مہیا کیا جائے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہم ہسپتال پرائیویٹ نہیں کررہے بلکہ ان ہسپتالوں کا انتظام و انصرام نجی شعبے کو دے رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں کے سرکاری ملازمین اپنی روٹین کے فرائض انجام دینگے۔ ہسپتال میں طبی عملے، آلات و دیگر کمی بیشی نجی کمپنیاں پورا کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے بروقت او پی ڈی خدمات، سرکاری رویے، صفائی ستھرائی، طبی عملے کی حاضری اور آلات کی فعالی جیسے مسائل کا فوری خاتمہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے کالا باغ ڈیم منصوبہ مسترد کردیا
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نجی شعبے کی جانچ کیلئے محکمہ صحت کا آئی ایم یو ان ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کرے گا۔ خراب کارکردگی پر ان کمپنیوں کے فنڈز سے کٹوتی کی جائیگی۔ ان ہسپتالوں میں عوامی شکایات کے ازالے کا بھرپور مکینزم ہوگا۔ اگلے مرحلے میں مزید ہسپتالوں کو بھی آوٹ سورس کیا جارہا ہے۔





