جنوبی وزیرستان کا صدر مقام وانا اپنے دلفریب قدرتی مناظر، سرسبز وادیوں اور دل موہ لینے والے موسموں کی وجہ سے ایک پوشیدہ جنت کا منظر پیش کرتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ علاقہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
بارش کے بعد جب پہاڑوں پر دھند اترتی ہے اور وادیاں سبز چادر اوڑھ لیتی ہیں تو وانا کا حسن سوات اور مری جیسے مشہور سیاحتی مقامات کا ہم پلہ دکھائی دیتا ہے، گرمیوں میں خوشگوار موسم اور سردیوں میں برف پوش پہاڑ سیاحوں کو مسحور کر دیتے ہیں، مقامی لوگوں کے مطابق جو کوئی بھی ایک بار یہاں کی فضا میں سانس لے وہ وزیرستان کی خوبصورتی کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
اس علاقے کی خوبصورتی سیاحوں کو مستقل طور پر اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہے جس کی بنیادی وجہ سہولیات کا فقدان ہے، نہ تو مناسب سڑکیں موجود ہیں نہ بجلی کی مستقل فراہمی اور نہ ہی سیاحوں کے قیام و طعام کے لیے معیاری انتظامات کیے گئے ہیں۔
عید اور دیگر تہواروں پر اگرچہ مقامی اور قریبی علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں ان وادیوں کا رخ کرتے ہیں لیکن ٹورزم کے فروغ کے لیے کوئی مستقل لائحہ عمل موجود نہیں، خیبرپختونخوا ٹورزم ڈیپارٹمنٹ نے اب تک صرف کاغذی کارروائیوں اور علامتی سروے تک خود کو محدود رکھا ہے جبکہ عملی اقدامات کا مکمل فقدان ہے۔
اہلِ علاقہ نے صوبائی حکومت مقامی ایم این اے اور ایم پی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وانا اور جنوبی وزیرستان کے دیگر حسین علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالام میں اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کا کامیاب مشاورتی جرگہ
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہاں سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو نہ صرف مقامی معیشت بہتر ہوگی بلکہ امن و خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔





