شام کی آئل فیلڈ میں دس کلومیٹر طویل زہریلی ندی تباہی کی علامت بن چکی

شام کی آئل فیلڈ میں دس کلومیٹر طویل زہریلی ندی تباہی کی علامت بن چکی

شام کے مشرقی علاقے میں واقع ایک بڑا شہر اور صوبہ دیرا الزور کے تیل کے میدان جنگ اور غفلت کی وجہ سے ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق دیرا الزور کی آئل فیلڈ میں دس کلومیٹر طویل زہریلی ندی بن چکی ہے جو انتہائی خطرناک فضلے سے بھری ہوئی ہے، یہ زہریلا فضلہ دریائے فرات سے محض 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے یہ فضلہ کسی بھی طوفان یا بارش کے بعد پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ماحولیاتی ماہرین اور خبر ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ دریائے فرات کی آلودگی سے شام اور عراق کی زرعی زمینیں اور پینے کے پانی پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوں گے، تیل جو کبھی روزگار اور خوشحالی کا ذریعہ تھا آج شام کے لیے تباہی کی علامت بن چکا ہے۔

دیرا الزور کی صحرائی خاموشی میں اب ایک سیاہ چمکتی ہوئی جھیل موت کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اس طویل عرصے سے جاری جنگ کے المناک نتائج کی عکاسی کرتی ہے، مقامی اور غیر ملکی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر زمین زہریلے اور خام تیل کو محفوظ رکھنے کا نظام جنگ کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

یہ زہریلا مرکب 24 گھنٹے بہہ رہا ہے اور زیر زمین پانی اور دریائے فرات کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے علاقے کے ماحولیاتی توازن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

دیرالزور صوبہ طویل عرصے سے حکومتی توجہ سے محروم ہے جہاں پل ٹوٹ چکے ہیں، بستیوں کو نقصان پہنچا ہے اور تیل کے میدان تباہی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی حملوں میں 65 فلسطینی شہید، 14 افراد پر مشتمل خاندان برباد، دو گھر تباہ

سفر کے دوران درپیش خطرات، ناکے اور خراب سڑکوں کی وجہ سے دیرالزور پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، ماحولیاتی اور سیکورٹی انجینئرز نے خبردار کیا ہے کہ دیرا الزور کے تیل کے کنوؤں سے بہنے والا زہریلا فضلہ پرندوں کو بھی لمحوں میں ہلاک کر دیتا ہے۔

Scroll to Top