خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں چند سو سے زیادہ دہشتگرد موجود نہیں، آئی جی

انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ صوبے کے کسی بھی ضلع میں چند سو سے زیادہ دہشتگرد موجود نہیں، تاہم بعض علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں زیادہ ہو سکتی ہیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے، جہاں مختلف دہشتگرد گروہوں میں جرائم پیشہ عناصر کے شامل ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

ہائی ویز پر پولیس پٹرولنگ بحا ل
ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع میں پولیس کی ہائی وے پٹرولنگ مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہاڑی علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے خلاف مؤثر آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تمام اضلاع میں پولیس ہائی الرٹ پرانہوں نے واضح کیا کہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے حساس اضلاع میں پولیس ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی ضلع کو سکیورٹی کے حوالے سے چیلنجنگ تصور نہیں کیا جا رہا۔

غیرملکی عناصر کی موجودگی پر تشویش
آئی جی خیبرپختونخوا نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہر سطح پر سنجیدگی سے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ سکیورٹی خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔

Scroll to Top