پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے باہمی تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا اعلان بائیسویں مشترکہ اقتصادی کمیشن اجلاس کے دوران کیا گیا، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے منعقد کیا گیا۔
ترجمان اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی وزیرِ اربن ڈیویلپمنٹ فرزانہ صادق نے کی۔ اجلاس کے اختتام پر اہم دو طرفہ پروٹوکولز پر دستخط بھی کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اور ایران صحت، تعلیم، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، ٹرانسپورٹ سمیت کئی اہم شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔ پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا، جو تکنیکی اور مالیاتی پہلوؤں پر کام کرے گا۔
اجلاس میں ایک اور اہم پیش رفت یہ رہی کہ دونوں ممالک کے درمیان لیبر کوآپریشن کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ کمیٹی تعمیرات، ٹیکسٹائل، اور زراعت کے شعبوں میں مزدوروں کی نقل و حرکت آسان بنانے کے لیے تجاویز پیش کرے گی، جس سے ہنر مند افرادی قوت کو دونوں ممالک میں مؤثر طریقے سے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔
حکام کے مطابق، تئیسویں مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ سال اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں ان فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا اور مزید اقدامات پر مشاورت کی جائے گی۔
پاکستان اور ایران کے درمیان اس قسم کی مشاورت دونوں ممالک کے معاشی استحکام اور خطے میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثبت سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔





