پاکستان کے 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد حج درخواست دہندگان کا حساس ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہو گیا ہے ۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و مواصلات کو بتایا گیا کہ حج درخواست دہندگان کا حساس ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہو چکا ہے جو ملک کے ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے حکام سے پوچھا کہ کابینہ کی منظوری کے باوجود طویل عرصے سے زیر التوا ڈیٹا پروٹیکشن بل کیوں منظور نہیں کیا جا رہا، انہوں نے اس تاخیر کو وزارتی غفلت قرار دیا اور وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی شازیہ فاطمہ کی کمیٹی اجلاس میں غیر حاضری پر تنقید کی۔
بریفنگ کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمن نے تصدیق کی کہ حج درخواست دہندگان کی حساس معلومات ڈارک ویب پر سامنے آئی ہیں، انہوں نے شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
سینیٹر افنان اللہ نے متواتر ڈیٹا لیکس کے خطرناک نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے ایران کی مثال دی جہاں چوری شدہ معلومات کو بعد میں جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان نے بھی جنگ کے دوران بھارتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معلومات کی سیکیورٹی قومی دفاع میں کتنی اہم ہے۔
قانون سازوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا یہ ایجنسی اتنی بڑی لیک کا مؤثر تدارک کر سکتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برابری کی بنیاد پر بھارت سے بات کرنا چاہتے ہیں، وزیر اعظم کا اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب
پی ٹی اے نے یقین دلایا کہ لیک کے ماخذ کا پتا لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، سینیٹرز کا کہنا تھا کہ مضبوط ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے بغیر ایسے واقعات رکیں گے نہیں۔





