ٹرمپ کی شہباز شریف سمیت مسلم رہنماؤں سے ملاقات آج ہوگی

ٹرمپ کی شہباز شریف سمیت مسلم رہنماؤں سے ملاقات آج ہوگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وزیر اعظم شہباز شریف سمیت مسلم اکثریتی ممالک کے متعدد رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور جنگ بندی کے بعد کا روڈ میپ زیر بحث آئے گا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کی یہ کثیرالجہتی ملاقات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ہوگی، جس کا مرکزی ایجنڈا غزہ میں قیامِ امن اور انسانی بحران کا فوری حل تلاش کرنا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارےکے مطابق، صدر ٹرمپ اس اجلاس میں ایک تفصیلی امن منصوبہ پیش کریں گے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی، جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے انخلا، اور غزہ میں نئی عبوری حکومت کی تشکیل جیسے نکات شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ مسلم ممالک سے یہ بھی درخواست کرے گا کہ وہ غزہ میں بین الاقوامی امن فوج بھیجنے اور تعمیر نو کے لیے مالی معاونت پر رضامند ہوں، تاکہ جنگ کے بعد پائیدار استحکام ممکن بنایا جا سکے۔

ٹرمپ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کریں گے، جس میں غزہ، مشرق وسطیٰ اور عالمی امن پر امریکی مؤقف کو وضاحت سے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں غیر معمولی شدت آ چکی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی انسانی حقوق کے ادارے ان حملوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک دسیوں ہزار فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ قحط اور انسانی بحران کی دہلیز پر ہے۔

دوسری جانب، عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد ممالک نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، جسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ اسرائیل اور امریکہ اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی موجودہ سفارتی سرگرمیاں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار کی سمت متعین کریں گی بلکہ ان کے صدارتی دور میں عالمی تعلقات کے لیے ایک نئی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔

Scroll to Top