امریکی صدر سے اسلامی مملکت کے سربراہان کی ملاقات

نیو یارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب اور مسلم ممالک کے سربراہان سے اہم مشاورتی ملاقات جاری ہے، جس میں غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال، گورننس اور امن کے قیام سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

اس اہم اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا، مصر اور متحدہ عرب امارات کے رہنما شریک ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے رہنماؤں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ مسلم اور عرب ممالک غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنی افواج تعینات کریں تاکہ اسرائیل اپنی فوجیں واپس بلا سکے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن یہ بھی چاہتا ہے کہ فلسطین میں عبوری حکومت کے قیام، بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے عرب و مسلم ممالک مالی امداد فراہم کریں تاکہ علاقائی استحکام ممکن ہو سکے۔

اجلاس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بعض ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : فلک جاوید خان، سلمان اکرم راجہ کے ایف 10 فلیٹ سے گرفتار – صحافی حسن ایوب کی تہلکہ خیز خبر

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دراصل حماس کے مظالم کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں حماس پر الزام عائد کیا کہ اس نے جنگ بندی کی پیش کش کو مسترد کیا، اور اب بھی 38 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا غزہ میں جنگ کا خاتمہ، قیدیوں کی رہائی اور پائیدار امن چاہتا ہے۔

Scroll to Top