سیاسی ماحول گرم، جلسوں کے دعوے اور جوتوں کے واقعات پر شاہد خٹک اور اختیار ولی آمنے سامنے

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان پشاور میں ہونے والے حالیہ جلسے پر لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔

شرکاء کی تعداد، سیکیورٹی کی صورتحال اور کارکنوں کے رویے پر دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر تنقید کے تیر چلائے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےپی ٹی آئی کے رہنما شاہد خٹک نے دعویٰ کیا کہ جلسہ پشاور کے سب سے بڑے گراؤنڈ میں ہوا، جہاں پارٹی ماضی میں بھی تین بڑے جلسے کر چکی ہے، جن میں ایک جلسے میں عمران خان خود شریک ہوئے تھے۔

ان کے مطابق اُس وقت جلسے میں 20 سے 25 لاکھ افراد شریک تھے، جب کہ حالیہ جلسے میں بھی 3 سے 4 لاکھ افراد کی شرکت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین ہمارے جلسوں کی مقبولیت سے خائف ہیں اور میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے جلسہ کسی مخصوص شخصیت کی رہائی کے لیے نہیں کیا بلکہ قوم کو دکھانا تھا کہ عمران خان اکیلے نہیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کارکنوں نے کسی پر جوتے یا بوتلیں پھینکی ہیں تو یہ عوامی غصے کی علامت ہے، جو ان لیڈرز سے وعدہ خلافیوں کی وجہ سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا تھا یہ غصہ ہمارے خلاف نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف ہے جس نے بانی پی ٹی آئی کو قید میں رکھا ہے۔

اختیار ولی کا طنزیہ ردعمل: شاہد خٹک کی ریاضی کمزور ہے

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و کوراڈینیٹر وزیر اعظم خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی کے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جلسے میں لاکھوں افراد کی شرکت کا دعویٰ غیر حقیقی ہے۔

انہوں نے کہا پی ٹی آئی خود تسلیم کر رہی ہے کہ انہوں نے 4 سے 5 ہزار کرسیاں لگائی تھیں، تو لاکھوں لوگ کہاں بیٹھے تھے؟ اگر پورا پشاور بھی جمع ہو جائے تو بھی شاہد خٹک کے اعداد و شمار پورے نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات گہرے تاریخی اور مذہبی رشتوں پر قائم ہیں، یوسف رضا گیلانی

اختیار ولی نے الزام لگایا کہ جلسے میں جوتے اور بوتلیں پھینکنے کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام خود پی ٹی آئی کی قیادت سے ناراض ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا اگر یہ جلسہ آپ کا تھا، تو پھر آپ کے لیڈرز کو جوتے کیوں دکھائے جا رہے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن) بھی ماضی میں بڑے جلسے کر چکی ہیں، جن کی ویڈیوز اور ریکارڈنگز موجود ہیں۔

انہوں نے 4 فروری 2018 کو موٹر وے کے قریب ہونے والے جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلسہ بھی تاریخ کا بڑا سیاسی اجتماع تھا۔

اختیار ولی نے کہا ہم 35 سال سے سیاست میں ہیں، ہم جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کرتے۔ ہمارے جلسے میں چالیس سے پچاس ہزار لوگ تھے۔

Scroll to Top