افغانستان میں انٹرنیٹ کی طویل بندش،حکام نے وجہ بتادی

کابل: افغانستان میں اس ہفتے پیش آنے والی وسیع مواصلاتی بندش کے بعد طالبان حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنے سے انکار کیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق بدھ کو پاکستانی صحافیوں کے ایک چیٹ گروپ کو بھیجے گئے مختصر تین لائنز کے بیان میں طالبان کے نمائندوں نے کہا کہ جو خرابی سامنے آئی وہ پرانی فائبر آپٹک کیبلز کی وجہ سے ہے جنہیں فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔

بیان میں کہا گیاکہ ایسی کوئی بات درست نہیں ہے کہ ہم نے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہے۔

اتواراورپیر سے شروع ہونے والی مواصلاتی خرابیوں نے نہ صرف آن لائن کنیکٹیویٹی بلکہ ٹیلیفون خدمات کو بھی متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کو پر لگ گئے، فی تولہ قیمت بلند ترین سطح پر

عالمی انٹرنیٹ نگرانی ادارے نیٹ بلاکس نے اس دوران افغانستان جس کی آبادی تقریباً 43 ملین ہےمیں مکمل انٹرنیٹ بندش” کی اطلاع دی تھی۔

دوسری جانب ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث افغانستان مکمل طور پر دنیا سے منقطع ہو گیا ہے۔ کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

مزید برآں، بینکوں سے آن لائن ٹرانزیکشنز، رقوم کی منتقلی اور نقدی نکالنے کے عمل میں مکمل تعطل دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ڈاک خانے کی خدمات بھی بند ہو چکی ہیں۔

اسی دوران، اقوام متحدہ نے طالبان حکام سے فوری طور پر انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس بندش سے افغان عوام کو مزید معاشی مشکلات اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یو این اسسٹنس مشن ان افغانستان (یوناما) نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے آن لائن کاروبار، بینکنگ سسٹم، رقوم کی ترسیل اور دیگر روزمرہ خدمات مکمل طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

Scroll to Top