وزیراعظم پاکستان کا مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی نامزد کرنے کا فیصلہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر ذمہ داری ۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے سیاسی بحران کے حل کے لیے اعلیٰ سطح پر مداخلت کرتے ہوئے مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ قدم سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

وزیراعظم کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش ایک مثبت اقدام قرار دی گئی ہے اور اب اس بات کا انحصار جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر ہے کہ وہ اس پیشکش کا مثبت جواب دیتی ہے یا نہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس پیشکش کو رد کیا تو اس سے ظاہر ہو جائے گا کہ اس کی قیادت کا ایجنڈا کچھ اور ہے اور وہ سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔

یہ کمیٹی سیاسی استحکام اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس موقع کا فائدہ اٹھائے گی تاکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کو سیاسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے تاکہ ملک میں جاری بحران کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔ اب سب کی نظریں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جواب پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرے گی یا سیاسی کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔
آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر رانا ثنااللہ، طارق فضل چوہدری، احسن اقبال، سردار یوسف، پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ پر مشتمل وفد مظفرآباد پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق حکومتی وفد عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مذاکرات کرے گا اور تمام مسائل کو بات چیت سے پرامن انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔





