سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف قومی و بین الاقوامی امور پر 483 بیانات دیے، تاہم فلسطین اور اسرائیل کے جاری تنازع پر ان کی خاموشی نے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غزہ جنگ میں اب تک ہزاروں فلسطینی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، مگر اس انسانی المیہ پر عمران خان کی طرف سے کوئی واضح یا مستقل بیان سامنے نہیں آیا۔ ان کے 483 بیانات میں صرف 9 ایسے بیانات شامل ہیں جو فلسطین یا اسرائیل سے متعلق تھے، اور آخری بیان 2 اکتوبر 2024 کو دیا گیا جو حزب اللہ اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تھا۔

اگرچہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ 80 فیصد پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ان کی فلسطین پر یہ خاموشی سوشل میڈیا صارفین اور عوام میں شدید سوالات کا باعث بنی ہے۔ کچھ صارفین انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ صرف اپنی سیاست میں مصروف ہیں، جبکہ کچھ حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایسے اہم انسانی بحران پر وہ کیوں چپ سادھے ہوئے ہیں۔

عمران خان ماضی میں فلسطین کی حمایت میں اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر کئی بار اپنی آواز بلند کر چکے ہیں، مگر اس سال کے دوران ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی فلسطین یا غزہ جنگ سے متعلق کوئی ہمدردی یا بیان سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق، عالمی انسانی بحران پر آواز بلند کرنا سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہونا چاہیے، اور عمران خان کی یہ خاموشی پاکستانی عوام میں مایوسی اور سوالات کا باعث بنی ہے۔





