پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے رات گئے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا جس میں وزارت اعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے سہیل آفریدی کو باضابطہ طور پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور انہیں وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے بعد پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر تین بجے طلب کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز)کے مطابق اجلاس اسپیکر ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر اہم ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کے امیدوار سہیل آفریدی بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پارٹی نے متفقہ طور پر سہیل آفریدی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں، علی امین گنڈا پور کے استعفے میں آئینی پیچیدگی کے پیش نظر ایک نیا، ہاتھ سے تحریر کردہ استعفیٰ تیار کر کے گورنر کو بھیجا جائے گا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے استعفے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
اجلاس کے بعد صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس اس وقت 92 ووٹ موجود ہیں اور 100 ووٹ حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی جاری ہیں۔
پختونخوا اسمبلی کے آج کے اجلاس میں پی ٹی آئی پر لگائے گئے حالیہ الزامات کا باضابطہ جواب بھی دیا جائے گا۔ اس سیاسی پیش رفت کے باعث صوبے کی سیاسی فضا گرما گرما ہو گئی ہے اور آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ثابت ہو سکتے ہیں۔





