خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت بننے کے امکانات روشن ،رانا ثناکا تہلکہ خیز بیان

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے اور اس صورتحال میں اپوزیشن کی حکومت بننے کے امکانات کافی روشن نظر آ رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں چاہے کوئی بھی حکومت قائم ہو، اسے قانونی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی اور قائدین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ رہنما دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں، جو نا قابل قبول ہے۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا’’سلمان اکرم نے کہا کہ علی امین گنڈاپور بانی کے احکامات کی تعمیل نہیں کر رہے، اس لیے انہیں ہٹایا گیا۔ پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی میں مختلف گروپوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جو پارٹی کی یکجہتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں بد انتظامی اور کرپشن کی شکایات عام ہیں، اور اگر پی ٹی آئی کے 20 سے 30 ارکان الگ ہو کر الگ گروپ بنا لیتے ہیں تو پارٹی کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی بد انتظامی کی وجہ سے اپوزیشن کے لیے صوبے میں حکومت قائم کرنے کے مواقع روشن ہو گئے ہیں، اور وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پی ٹی آئی کو کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔

Scroll to Top