افغانستان کی جارحیت بڑے منصوبے کا حصہ ، بھارت کی پشت پناہی حاصل

افغانستان کی جارحیت بڑے منصوبے کا حصہ ، بھارت کی پشت پناہی حاصل

افغانستان کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حالیہ حملے کو محض ایک سرحدی جھڑپ قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ یہ حملہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری پر کھلا چیلنج تھا بلکہ ایک منظم اور بڑے منصوبے کا حصہ بھی ہے جس کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے ذریعے کیا گیا، جسے افغانستان کی سرزمین سے بھرپور معاونت حاصل تھی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں بدامنی کو ہوا دینے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغان حکومت کے ذریعے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کر رہا ہے۔

پاک فوج کا فوری اور سخت جوابافواجِ پاکستان نے دشمن کی اس جارحیت کا فوری، بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا۔ آرٹلری کارروائی میں افغانستان کی کئی سرحدی چوکیاں تباہ کر دی گئیں، اور دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

فوجی ذرائع نے بتایا کہ’’ہماری سرحدیں ہمارا فخر ہیں، انہیں چیلنج کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

جنگ بندی کی افغان پیشکش مستردافغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان کو جنگ بندی کی پیشکش کی گئی، مگر پاکستان نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ دہشتگردی اور دوغلی پالیسیوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ کابل کے حکمرانوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ بھارت کا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں اور پاکستان مخالف قوتوں کو اپنی سرزمین فراہم کر رہے ہیں۔

عالمی ردعمل، سعودی عرب، قطر، ایران کی تشویشاناک صورتحال پر بین الاقوامی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے
سعودی عرب نے پاک،افغان سرحدی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔قطر نے بھی دونوں ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل تلاش کریں۔ایران نے دونوں ہمسایہ ممالک کو فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی جانب سے ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر بھی منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کی مداخلت کا طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

Scroll to Top