ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خیبر پختونخواہ صدیق انجم کی گرفتاری کی درخواست ضمانت خارج، کسی بھی وقت گرفتاری کا امکان

ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خیبر پختونخواہ صدیق انجم کی گرفتاری کی درخواست ضمانت خارج، کسی بھی وقت گرفتاری کا امکان

اسلام آباد کی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل ماجوکہ نے جج ہمایوں دلاور کیس میں ڈائریکٹر انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ صدیق انجم کی قبل از گرفتاری کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی، عدالت میں شیخ عامر سہیل انجم، ایڈیشنل ڈائریکٹر (لیگل)، این سی سی آئی اے/ایف آئی اے پیش ہوئے جبکہ احمد صادق شکایت کنندہ بذاتِ خود موجود تھے۔

عدالت کی جانب سے جاری تحریری حکمنامہ کے مطابق صدیق انجم سمن کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوا عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

پٹیشنر نے 2 نومبر 2024 کو قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس پر اسے قبل از گرفتاری ضمانت دی گئی۔پٹیشنر نے بعد ازاں رٹ پٹیشن نمبر 3566-Q/2024 اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں توقع ظاہر کی کہ جب تک یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے ٹرائل کورٹ کارروائی سے اجتناب کرے۔اسی بنیاد پر یہ درخواست 25 جنوری 2025 کو غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دی گئی۔

بعد ازاں، مذکورہ رٹ پٹیشن 19 ستمبر 2025 کو خارج کر دی گئی۔ضمانت کی درخواست 3 اکتوبر 2025کو بحال کی گئی اور پٹیشنر کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا۔

پٹیشنر کو واٹس ایپ کے ذریعے نوٹس موصول ہوا مگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا۔بعد ازاں 8 اکتوبر 2025 کیلئے دوبارہ نوٹس جاری کیا گیا۔واٹس ایپ نمبراور اس کے والد کے ذریعے سمن کی تعمیل کے باوجود پٹیشنر عدالت میں پیش نہ ہوا۔

آج بھی اسے اسی نمبر پر سمن بھیجا گیا مگر وہ غیر حاضر ہے۔ حکنامہ کے مطابق صدیق انجم نے دانستہ طور پر عدالت میں پیش ہونے سے گریز کیا ہے۔ لہٰذا یہ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے۔

Scroll to Top