خیبرپختونخوا میں عرصہ دراز سے قائم افغان پناہ گزین کیمپس بند

خیبرپختونخوا میں عرصہ دراز سے قائم افغان پناہ گزین کیمپس بند

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے قائم افغان پناہ گزین کیمپز بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر میں موجود افغان مہاجرین کو فوری وطن واپسی کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ مخصوص ضلعی کیمپز کو بند کر کے اراضی قبضے سے خالی کرانے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نوٹیفکیشن کے نتیجہ میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، مانسہرہ، چارسدہ اور ملاکنڈ میں قائم افغان پناہ گزین کیمپز بند کر دیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بند کیے گئے کیمپز کی متعلقہ اراضی قبضے سے آزاد کرائی جائے اور انتظامی اقدامات فوراً عمل میں لائے جائیں۔

نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی )کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حوالے سے کہا کہ افغان انتظامیہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کے ہاں بعض علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے عناصر بعض اوقات وہاں سے تعلق رکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی پاکستانیوں کے خلاف حملے کرے گا، اسے نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور’’ٹِٹ فار ٹَٹ‘‘ کے اصول کے تحت مؤثر جواب دیا جائے گا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا’’اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کہیں چھپ کر بیٹھا ہے اور اس کا پتہ نہیں چل سکتا تو وہ غلط سوچ رہا ہے، جدید دور ہے زمین کے نیچے بیٹھے لوگوں کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی جارحیت ہوگی، حکومت کی طرف سے بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا اور آئندہ ایسے حملوں کے مقابلے میں پہلے جیسے روایتی ردعمل کی بجائے بہتر اور زیادہ مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بندش کے فیصلے کا مقصد سرحدی امن و امان کو برقرار رکھنا، غیرقانونی قبضوں کا خاتمہ اور ممکنہ عسکری خطرات کو کم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مہاجرین کی واپسی کے انتظامات اور انسانی پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھا جا رہا ہے تاکہ واپس بھیجے جانے والے افراد کے حقوق اور ضروری سہولیات کا خیال رکھا جائے۔

مزید پیش رفت اور حکومتی حکمت عملی کے بارے میں باضابطہ اعلانات آنے پر متعلقہ ادارے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔

Scroll to Top