پاک نیوی میں تین جدید ٹوئن ڈیزل 2400 ہوورکرافٹس شامل

تین جدید ٹوئن ڈیزل 2400 ہوورکرافٹس کو باضابطہ طور پر پاک میرینز میں شامل کیا گیا، جو پاکستان نیوی کی آپریشنل صلاحیتوں اور جدید کاری کے پروگرام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

پاک نیوی کے چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس ایریا میں قائم اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور آپریشنل تیاری و جنگی صلاحیت کا جائزہ لیا۔

دورے کے دوران تین جدید  ٹوئن ڈیزل 2400  ہوورکرافٹس کو باضابطہ طور پر پاک میرینز میں شامل کیا گیا، یہ اقدام نیوی کی آپریشنل استعداد اور جدیدکاری کے سلسلے میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان نئے ہوورکرافٹس کو بیک وقت مختلف سطحوں پر آپریشن کے قابل بنایا گیا ہے جن میں کم گہرائی والے پانی، ریتیلے ٹیلے، دلدلی اور کیچڑیلے ساحلی علاقے شامل ہیں

روایتی کشتیاں معمول کے مطابق کام نہیں کر سکتیں، اس منفرد صلاحیت کے باعث پاک میرینز کو زمین و سمندر دونوں پر بیک وقت کارروائیاں انجام دینے میں برتری ملے گی اور بحری دفاع میں تیزی و لچک پیدا ہوگی۔

نیول چیف نے افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان نئے پلیٹ فارمز کی شمولیت پاکستان نیوی کے جدید کاری کے وژن کی عکاس ہے اور یہ ملک کے سمندری حد بندی اور ساحلی پٹی خصوصاً کریکس ایریا کے دفاع کو مضبوط بنائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ سمندری مواصلاتی راستے  اور بحری سلامتی صرف عسکری ضرورت نہیں بلکہ یہ قومی خودمختاری اور اقتصادی استحکام کا ایک اہم ستون بھی ہیں۔

ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہم جانتے ہیں کہ اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کے ہر انچ کا دفاع کیسے کرنا ہے، انہوں نے مزید قوم کو یقین دلایا کہ پاک نیوی کی دفاعی صلاحیتیں ساحل سے سمندر کی گہرائیوں تک مضبوط ہیں اور نیوی خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹانک میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،بھارتی حمایت یافتہ 8 خوارج ہلا ک

تھرمل کوریج، تیزی سے منتقل ہونے کی صلاحیت اور کثیرالسطحی آپریشنز کی وجہ سے یہ ہوورکرافٹس پاک میرینز کی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گے جبکہ دشمن کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل کی صلاحیت کو بھی تقویت ملے گی۔

Scroll to Top