ٹرمپ طیارے سے نہ اترے، امیرِ قطر اور وزیرِاعظم کو ملاقات کے لیے طیارے میں بلا لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شاہانہ انداز، امیرِ قطر اور وزیرِاعظم سے ملاقات کے لیے خود طیارے میں ہی بیٹھے رہے، ایئر فورس ون میں بیٹھک لگا لی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایشیا جاتے ہوئے ایندھن کے لیے مختصر قیام کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی۔

ملاقات العدید ایئر بیس پر ایئر فورس ون میں ہوئی جہاں امریکی فوج کا علاقائی ہیڈکوارٹر اور ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

ٹرمپ نے قطری قیادت کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر غزہ کے نازک امن معاہدے کو برقرار رکھنے میں ایک اہم اتحادی ہے۔

امیرِ قطر نے ٹرمپ سے کہا جیسے ہی مجھے اطلاع ملی کہ آپ کا طیارہ ایندھن کے لیے دوحہ میں رکے گا میں نے کہا کہ خود حاضر ہو کر آپ کا استقبال کروں گا۔

ٹرمپ نے جواب میں کہا  آپ اپنے ملک کے ایک مقبول اور محترم رہنما ہیں، ہم نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے مل کر بہت کام کیا ہے اور مجھے فخر ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں، قطر، ریاست ہائے متحدہ کا ایک عظیم اتحادی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امیرِ قطر اپنے عوام میں محبوب اور قابلِ احترام رہنما ہیں جبکہ وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کو انہوں نے اپنا دنیا کے لیے دوست قرار دیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حوالے سے جو پیشرفت ہم نے کی ہے وہ ناقابلِ یقین ہے اور قطر نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور وینزویلا میں تناؤ، ٹرمپ نے کارروائی کا اعلان کر دیا

دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن غزہ میں کثیر القومی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے متعلق تجاویز پر غور کر رہا ہے۔

مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر کل قطر میں تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ہماری مکمل ٹیم غزہ میں فورسز کی تعیناتی کے معاہدے پر کام کر رہی ہے۔

Scroll to Top