پی ایس ایل میں اب کون سی کرنسی چلے گی، ڈالر یا روپیہ؟ اہم اعلان سامنے آگیا

پاکستان سپر لیگ اپنے موجودہ فرنچائز کے 10 سالہ معاہدے کے اختتام کے بعد نئے معاہدوں کی تیاری کر رہی ہے۔

اس نئے معاہدے میں کیا پاکستانی روپیہ استعمال ہوگا یا ڈالر، اس حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں، لیگ کی ویلیوایشن کے دوران کئی نئی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے مالی ماڈل کے تحت رقم کی ادائیگی اب ڈالر کی بجائے پاکستانی روپے میں کرنے پر غور کر رہا ہے اور نئی فرنچائز کے مالکانہ حقوق بھی روپے میں دیے جانے کا امکان ہے۔

آئندہ ایک ہفتے کے اندر ری نیوئل معاہدوں کا مسودہ فرنچائز کو بھیج دیا جائے گا، اگر کوئی فرنچائز نئے معاہدے کو قبول نہ کرے تو اس کے لیے دوبارہ نیلامی کا عمل ہوگا۔

پی ایس ایل کی موجودہ چھ فرنچائز کے معاہدے اس سال دسمبر میں ختم ہو جائیں گے اور گیارہویں سیزن میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 8 کر دی جائے گی۔

پی ایس ایل کے آغاز 2015 میں پانچ ٹیموں کے ساتھ ہوا تھا جس میں سب سے مہنگی ٹیم کراچی کنگز تھی جسے 2.6 کروڑ ڈالر میں خریدا گیا۔

لاہور قلندرز 2.5، پشاور زلمی 1.6، اسلام آباد یونائیٹڈ 1.5 اور کوئٹہ گلیڈیئٹر 1.1 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11: پشاور میں میچز کے امکان پر سی ای او کا اہم بیان سامنے آ گیا

2017 میں چھٹی ٹیم کے طور پر ملتان سلطانز کو شامل کیا گیا جسے 6.35 کروڑ ڈالر سالانہ فیس پر خریدا گیا تھا۔

Scroll to Top