استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستانی وفد نے افغان طالبان کے وفد کو اپنا حتمی اور دوٹوک مؤقف پیش کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے مذاکرات کے دوران یہ بھی باور کرایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغان طالبان کو ٹھوس اور یقینی اقدامات کرنا ہوں گے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران افغان طالبان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر کارفرما ہیں جو افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور مکمل
ذرائع کے مطابق بات چیت کا اگلا مرحلہ اور مستقبل کی پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے اور عملی اقدامات پر منحصر ہے۔
گزشتہ روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان پاک افغان عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے استنبول میں مذاکرات کے دو دور ہوئے جن میں دونوں جانب سے دوحا معاہدے کے بعد پیشرفت سے متعلق ڈوزئیرز کا تبادلہ کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے ڈی جی ایم او اور ڈپٹی ڈی جی ایم او جبکہ افغانستان کی طرف سے نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ مجیب نے وفد کی قیادت کی۔
اس سے پہلے 19 اکتوبر کو دوحہ مذاکرات میں وزیردفاع خواجہ آصف اور افغان ہم منصب ملا یعقوب شریک ہوئے تھے جس میں فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کے لیے دوٹوک پیغام دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کھلی جنگ ہوگی، انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور بھارت افغانوں کے ذریعے پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا اب مہمان نوازی نہیں، قانون کی حکمرانی ہوگی گزشتہ چار پانچ روز میں سرحدی علاقوں میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔ ہم نے 40 سال افغانوں کی مہمان نوازی کی، اب جو بھی پاکستان آئے گا ویزے کے ذریعے ہی آئے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ہر دوسرے دن شہدا کے جنازے پڑھتے ہیں۔





