پشاور کے احتساب عدالت نے اپر کوہستان سکینڈل کے مرکزی ملزم گل رحمان کی ضمانت درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے جیل میں رکھنے کا حکم دے دیا۔
احتساب عدالت میں اپر کوہستان کے مرکزی ملزم اور نیشنل بینک داسو برانچ کے کیشئر گل رحمان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم گل رحمان نے اپنے بھائی محمد نواز اور ساتھی محمد یحییٰ کے ساتھ مل کر غیر قانونی ٹرانزیکشنز کیں اور بغیر تصدیق کے چیکس جاری کرکے قومی خزانے سے نجی اکاؤنٹس میں پیسے منتقل کیے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق گل رحمان کا اس سکینڈل میں کردار بہت اہم تھا اور اس نے مخصوص اکاؤنٹس میں 361 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کی۔
یہ بھی پڑھیں: اپر کوہستان سکینڈل: ایک اور ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید پانچ دن کی توسیع
گزشتہ روز نیب ٹیم نے ایبٹ آباد میں کارروائی کرتے ہوئے سرکاری اکاوئنٹ سے 36 ارب روپے سے زائد کرپشن کے کیس میں گرفتاری کی۔
اس کارروائی میں خاتون ملزمہ کی نشاندہی پر اس کے گھر سے 20 کروڑ روپے برآمد کیے گئے جو پینٹ کے ڈبوں میں چھپائے گئے تھے، خاتون ملزمہ سکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کی اہلیہ ہیں۔
نیب نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ملازم قیصر اقبال اور ان کی اہلیہ کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا تھا اور دونوں میاں بیوی اس وقت عدالت سے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں۔





