وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نےوزیراعلی خیبرپختونخوا کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں وقوع پزیر نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو وہ جاری کر رہے ہیں اور عوام سے درخواست کی ہے کہ اسے ضرور ملاحظہ کریں۔
بریکنگ 🚨🚨
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کورکمانڈر لاہور کے گھر پر دھاوا کی ویڈیو ۔۔۔ اختیار ولی خان نے سہیل آفریدی کی ویڈیو چلا دی@ikhtiarwali pic.twitter.com/FhamvnjhPg— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) November 1, 2025
سرکاری ٹیلی ویژن (پی ٹی وی نیوز) پر جاری بیان میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ آپ نے سنا ہوگا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ایک نعرہ بڑا زیادہ مقبول ہوا کہ میں عشق عمران میں مارا جاؤں گا، اس عشق عمران کی تشریح کرتے کرتے ہم نے جو دیکھا تو وہ تھا کوئی اپنے اداروں پر حملے کرنا ،عشق عمران یہ شاید اس کو کہتے ہیں کہ آپ نے فوجی تنصیبات پر حملے کرنے ہیں اورعشق عمران وہی ہے کہ آپ نے اپنی ریاست کے خلاف لڑنا ہے۔ دشمن کے خلاف کبھی اکٹھے نہیں ہونا۔
انہوں نے مذید کہاکہ ہم نے ماضی میں جو نو مئی کے واقعات ہوئے تھے آج اس کی متعلق ایک ویڈیو وہ اپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں ۔آپ ضرور اس کو ملاحظہ فرمائیے ۔جو اس وقت خیبر پختونخوا کے وزیراعلی صاحب ہیں ،سہیل افریدی صاحب وہ اس میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کور کمانڈر ہاؤس پر ہم پہنچ چکے ہیں اور تمام دوست یہاں پر پہنچے ،یہی دن ہے یہی وہ وقت ہے جو فیصلے کا وقت ہے کہ ہم نے فوج کے خلاف لڑنا ہے ،کور کمانڈر ہاؤس پر چڑھائی کرنی ہے ،وہاں پر ہم نے لڑائی کرنی ہے، گولی چلےپرواہ نہیں ،خون بہے پرواہ نہیں ،لوگوں کی جان جائے پرواہ نہیں ریاست کو نقصان پہنچے پرواہ نہیں ،پاکستان ٹوٹتا ہے حاکم بدہن تو پرواہ نہیں لیکن عشق عمران ہے اس میں اگے چلے ،بڑھتے چلے۔
انہوں نےمذید کہاکہ ایجنڈا کیا ہے ہم سمجھنا چاہتے ہیں ،سہیل آفریدی صاحب واپس آپ تقریر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے دہشت گرد کہا گیا ،میں سوال کرتا ہوں آج اپنی قوم کے سامنے یہ سوال رکھتا ہوں کہ ہمیں سمجھایا جائے کہ اگر اپنے فوجی تنصیبات پر حملہ کرنا بھی دہشت گردی نہیں ہے، فوجی جوانوں کی وردیوں کو آگ لگا دینا بھی دہشت گردی نہیں ہے ،کور کمانڈر ہاؤس پر بھی حملہ کرنا دہشت گردی نہیں ہے، ریڈیو پاکستان کو جلا کے خاکستر کر دینا یہ بھی دہشت گردی نہیں ہے،رینجر کے جوانوں پر گاڑیاں لینڈ کروزر چڑھا کے ان کو کچل دینا یہ بھی دہشت گردی نہیں ہے ،تو بتائیے دہشت گردی ہے کیا۔
اختیار ولی خان نے کہاکہ دو سوال اگر میرے ساتھ اور رکھ دوں کہ دہشت گردوں کے ساتھ ایک ساتھ ساز باز رکھنا، ان کو دفتر بنا کے دینا، ان کو دوبارہ اپنے وطن میں پاکستان بلا کر ان کو فیسلیٹیٹ کرناچالیس 50 ہزار لوگوں کو ،یہ بھی دہشت گردی نہیں ہے تو نہیں ہوگی، لیکن اس کو عشق عمران کہتے ہیں، جس میں کوئی سکول نہیں بنتا، عشق عمران میں کوئی کالج نہیں بنتا ،کوئی سڑک نہیں بنتی، کوئی یونیورسٹی نہیں بنتی ،کوئی ہسپتال نہیں بنتا، پشاور کا جو دارالخلافہ ہے خیبر پختونخوا کا جس میں ایک لمبے زمانے سے چار ہسپتال ہیں ان چار ہسپتالوں میں 13 سال کی حکومت کے باوجود یہ عشق عمران والوں اس میں ایک ہسپتال کا اضافہ نہیں کر سکے۔





