تعلیم میں بڑا بدلاؤ: خیبرپختونخوا کے سکول جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے نئے دور میں داخل

پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی، سرکاری سکولوں کے نتائج میں بہتری، اور اساتذہ کی جدید تربیت ان کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے محکمہ تعلیم اور اس کے ذیلی اداروں سے بریفنگ کے دوران کہا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ رٹہ کلچر کا خاتمہ ہو اور ایس ایل او بیسڈ امتحانات کے ذریعے طلباء اور طالبات کو پرائمری سے آٹھویں گریڈ تک تیار کیا جائے۔

اساتذہ کی تربیت کے لیے ڈی پی ڈی اور ڈی سی ٹی سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام سکولوں میں مفت درسی کتابیں، سکول بیگز، اور فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، ساتھ ہی موجودہ فرنیچر کی مرمت اور قابل استعمال بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

ارشد ایوب خان نے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ اور سیکرٹریٹ سمیت تمام ذیلی اداروں کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائزیشن اور پیپر لیس بنانےکی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ ہوسٹنگ ٹرانسفرز پر پابندی برقرار رہے گی اور ملازمین کے لیے ڈیجیٹائزڈ آن لائن سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ میرٹ اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے آوٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے لانگ، میڈیم اور شارٹ ٹرم پلانز پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی اور نان فارمل ایجوکیشن کے تحت کمیونٹی سکولز اور اے ایل پی سینٹرز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کی نئی عمرہ پالیسی نافذ

اس کے علاوہ فاؤنڈیشن ورچوئل لرننگ پروگرام کو صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی تاکہ طلباء اور طالبات آن لائن کلاسز سے فائدہ اٹھا سکیں۔

وزیر تعلیم نے بجٹ کی ترجیحی منصوبوں کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گرلز ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ طالبات کو اپنے علاقوں میں بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے محکمہ تعلیم کمپلینٹ سیل کو فعال کرنے اور عوام کو آگاہی فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔

اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹریز عبدالباسط اور مسعود خان، مینجنگ ڈائریکٹرز، تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Scroll to Top