استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار

ترکی کے دارلحکومت استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری مذاکرات میں اب بھی ڈیڈلاک برقرار ہے۔

وزیر اطلاعات عطاء تارڑنے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے ثالثی کے لیے ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کیا تاہم پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ترمیم میں صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو مخالفت کریں گے، مولانافضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دوحہ امن معاہدے 2021 کے تحت اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کو اب تک پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے مذید کہاکہ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ افغان عوام کے لیے خیر سگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پر امن مستقبل کا خواہش مند ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آرٹیکل 243 پر حکومت کی حمایت کریں گے، بلاول بھٹو زرداری

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں، اور اپنی عوام اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو استنبول میں پاکستانی اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز کئی دنوں کی سرحدی جھڑپوں کے بعد ہوا تھا، تاہم کابل سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے اسلام آباد کی تشویش برقرار رہی جس کے باعث مذاکرات میں تعطل آیا تھا۔

29 اکتوبر کو پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستانی وفد وطن واپس لوٹنے کی تیاری کر رہا ہےمگر ترکیہ اور قطر نے مذاکراتی عمل کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں دوبارہ بحال کرایا۔

Scroll to Top