ضلع خیبر کی وادیِ تیراہ میں قائم منشیات کی منڈی کی حفاظت پر مامور سادہ کپڑوں میں ملبوس گارڈز نے خریداری کے لیے آنے والے بیوپاریوں کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے۔
ذرائع کے مطابق یہ گارڈز دراصل منڈی کے مالکان کے خاص افراد ہیں جو منڈی میں آنے جانے والوں پر نظر رکھتے ہیں۔ گارڈز نے بیوپاریوں کے موبائل اس خدشے کے پیشِ نظر جمع کر لیے کہ کوئی منڈی کے اندر فروخت ہونے والی چرس اور دیگر منشیات کی ویڈیوز یا تصاویر نہ بنا سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق وادیِ تیراہ کی اس منڈی میں چرس اور دیگر منشیات کی مختلف اقسام کے اسٹال لگے ہوتے ہیں، جہاں خریدار بڑی تعداد میں آتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈز کی جانب سے موبائل ضبط کرنے کا مقصد منڈی کی سرگرمیوں کو خفیہ رکھنا اور منشیات کی خرید و فروخت کے مناظر کو ریکارڈ ہونے سے روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام
ایکسائز پولیس نے منشیات اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔
ترجمان ایکسائز پولیس کے مطابق ایچ گول چوک پر کارروائی کے دوران ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی گئی۔
برآمد ہونے والی منشیات میں 50 ہزار 400 گرام چرس اور 2500 گرام آئس شامل ہے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران منشیات اسمگلر کو گاڑی سمیت گرفتار کر لیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جو پشاور کے علاقے باغبان کا رہائشی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم یہ منشیات گاڑی کے ذریعے پنجاب اسمگل کر رہا تھا۔
ایکسائز پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ملزم سے منشیات کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔





