ترکیہ نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

استنبول: ترکی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے 37 سینئر عہدیداروں کے خلاف نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق استنبول کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے جاری بیان میں کہا کہ وارنٹ میں وزیر دفاع کاٹز، قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر اور فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کے نام بھی شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ حکام نے غزہ میں منظم انداز میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

پراسیکیوٹر کے دفتر نے ترک-فلسطینی دوستی اسپتال کا بھی حوالہ دیا، جو غزہ میں ترکی کا تعمیر کردہ ایک اسپتال تھا، تاہم مارچ میں اسرائیلی فضائی حملے میں یہ تباہ ہو گیا تھا۔

واضح رہے کہ ترکی نے گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں ایک مقدمے میں بھی بطور فریق شمولیت اختیار کی تھی، جو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کے تحت دائر کیا گیا تھا۔

اس اقدام سے ترکی کی طرف سے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر قانونی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ فورس میں کون سی غیر ملکی افواج قابلِ قبول ہوں گی، فیصلہ اسرائیل کرے گا، نیتن یاہو

 یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شامل غیر ملکی افواج کے انتخاب کا فیصلہ اسرائیل خود کرے گا۔

نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل اپنی سیکیورٹی کا خود ذمہ دار ہے، اور اسی پالیسی کے تحت یہ طے کرے گا کہ کن ممالک کی افواج غزہ میں تعینات ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف امریکا کے لیے بھی قابلِ قبول ہے، جیسا کہ اس کے اعلیٰ نمائندے حالیہ دنوں میں واضح کر چکے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ عرب یا دیگر ممالک اس کثیر القومی فورس میں شمولیت پر آمادہ ہوں گے یا نہیں، خاص طور پر اس وقت جب حماس نے اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے اور اسرائیل نے فورس کی ساخت پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے فوجی غزہ پٹی میں نہیں بھیجے گی، تاہم وہ انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکی اور آذربائیجان سے اس فورس میں شرکت کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عندیہ دیا تھا کہ وہ غزہ میں ترک سیکیورٹی فورسز کے کسی بھی کردار کی مخالفت کریں گے۔

Scroll to Top