اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 243 سے متعلق کسی بھی معاملے پر مسودہ سامنے آنے تک کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 243 فورسز سے متعلق ہے اور آئین میں کسی بھی ترمیم کے لیے اتفاقِ رائے ضروری ہے، نہ کہ اکثریت کے ذریعے یکطرفہ فیصلے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین قوم کا مشترکہ دستاویز ہے اور اس میں ترامیم قوم کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں گارنٹی دی گئی تھی کہ صوبوں کا حصہ کم نہیں ہوگا اور وفاق کمزور نہیں ہوگا۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی کہا کہ حکومت جو بھی ترمیم یا بل لے کر آئے گی، تحریک انصاف اسے مسترد کرے گی کیونکہ پارلیمنٹ کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ قانون سازی کرے۔
یہ بھی پڑھیں : ستائیسویں آئینی ترمیم ،چیئرمین پی ٹی آئی کا موقف سامنے آگیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم آئین کی روح کے مخالف ہے ، اس آئینی ترمیم سے قوم کو مزید تقسیم نہ کریں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئینی ترمیم اس طریقے سے نہیں ہوتی، نہ ہمارےساتھ کوئی رابطہ ہوانہ 27 ویں ترمیم کا مسودہ شیئر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سپیریم کورٹ کے پاس 56 ہزار کیسز زیر التوا ہیں، کہاں گئے وہ سینئر ججز جنہوں نے یہ کیسز نمٹانے تھے،بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر کہہ رہا ہے کہ عوام کی خاطر جیل میں بیٹھا ہوں، بانی پی ٹی آئی آئین وقانون کی بالادستی کیلئے جیل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے وفاق کو خطرہ ہے، حکومت وفاق کا اسٹرکچرخطرے میں ڈالنا چاہتی ہے، صوبے انتظارکررہے ہیں کہ 11واں این ایف سی ایوارڈ کب آئے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بعض لوگوں کو زیادہ اختیار دینا وفاق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا، 27ویں ترمیم سے این ایف سی میں صوبوں کاشیئرکم کرنے کا پلان ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس آئین میں ترمیم کاکوئی اخلاقی جواز نہیں، دنیابھر میں آئین میں ترامیم اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم لانا قوم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے، حکومت مہربانی کرکے اپنی مدت کے دن پورے کرے۔





